آپ کے نام!
ویسے تو عمر کی کوئی پابندی نہیں ہے، کسی بھی عمر میں آپ آن لائن کام کر سکتے ہیں۔البتہ جو اہم بات ہے اس سلسلے میں وہ یہ ہے کہ آن لائن کام کی طرف آنے سے پہلے جو سیکھنے اور سمجھنے کا مرحلہ ہوتا ہے وہ کس عمر میں ہونا بہتر ہے۔ تو وہ ہے جب آپ اپنے تعلیمی دور میں ہوں (چاہے اسکول، کالج،یونیورسٹی)کیونکہ اس میں گھریلو ذمہ داریاں کم ہوتی ہیں تو سیکھنے کا وقت زیادہ میسر ہوتا ہے۔
آج کے دور میں بچے بچیوں کے پاس موبائل اور دیگر gadgets ہیں۔ ایسے میں بچے کی ڈائریکشن کو بہتر کر نے کے لئے آپ کو اسے کسی بھی پراڈکٹیو کام میں مصروف کرنے کی ضرورت ہے، یہ ضروری نہیں کہ وہ تعلیم چھوڑ دے، یا آپ توقع کریں کہ وہ دو ڈھائی ماہ میں ارننگ کرنے لگ جائے گا ، بلکہ مقصد یہ ہو گا کہ وہ اپنی ساری انرجی اور اپنا ایکسٹرا وقت کسی غیرمناسب ایکٹیویٹی میں نہیں لگائے گا۔
کیونکہ والدین چوبیس گھنٹے بچوں کی نگرانی نہیں کرتے ایسے میں اگر آپ کا دس سالہ ، چودہ سالہ بچہ موبائل پر کچھ سیکھ رہا ہو گا تو آپ کو بھی اس کی طرف سے پریشانی نہیں ہو گی۔ کل کو یہی سیکھا ہوا علم اسے مالی طور پر فائدہ دے رہا ہو گا ۔اسکل سیکھنا اس طرح ہے جس طرح بچے کو تیراکی سکھانا ہے ۔ زندگی کے اچھے برے حالات میں اسکل انسان کو سروائیو کرنے کے قابل بناتی ہے۔
اگر آپ اس معاشرے میں روزگار کے مواقعوں کو دیکھیں تو جو کم پڑھا لکھا ہے اس کے پاس روزگار کے کیا آپشنز ہیں؟ مزدوری؟ یا جو خواتین کم پڑھیں لکھی ہیں تو ان کو جو کرنا آتا ہے وہ اسی کے ذریعے اپنی فیملی کو اسپورٹ کرتی ہیں۔ لوگوں کے گھروں کا کام کر کے، کیونکہ ان کو بھی پتا ہے لوگوں کی باتوں سے ان کے گھر کا چولہا نہیں جلے گا۔انہیں اپنے لئے کچھ کرنا ہے۔ اسی لئے ضروری ہے آپ کم عمری میں لڑکے لڑکیوں کو دوران تعلیم کوئی اسکل سیکھنے کی جانب لے کر آئیں۔
رہی بات شادی شدہ خواتین کی، کہ کیا وہ آن لائن کام کر سکتی ہیں؟ تو بالکل کر سکتی ہیں۔بلکہ یہ زیادہ آسان ہے کیونکہ آپ کو اپنے گھر سے ہی کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن بات یہاں پھر وہی آ جاتی ہے آن لائن کام کرنے سے پہلے اس کام کو سیکھنے کے پروسیس کی۔
یہاں دو رائے ہیں۔ پہلی رائے اگر آپ کا شوہر اچھا کما رہا ہے اور آپ کو ضرورت نہیں ہے آن لائن کام کرنے کی تو پھر آپ اس طرف نہ آئیں۔
آن لائن کام کرنا یا سیکھنے کی طرف صرف اس لیے آنا کہ آپ کو یہ لگتا ہے کہ آپ گھریلو ذمہ داریوں میں ضائع ہو رہی ہیں تو یہ سوچ درست نہیں۔
وہ خاتون جو کہیں جاب کر رہی ہے یا کیرئیر بنا رہی ہے اس کے مقابلے میں وہ خاتون جو گھر، بچوں کو سنبھال رہی ہے ،کسی طرح بھی کم نہیں ہے۔ بلکہ وہ تو ایک unpaidجاب کر رہی ہے ، جس میں کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔ وہ ضائع نہیں ہو رہی اگر وہ اپنا وقت ، انرجی اپنے بچوں، اپنے گھر پر لگا رہی ہے۔
شادی شدہ خواتین کو کسی بھی طرح کا احساس کمتری نہیں ہونا چاہیے ان خواتین کو دیکھ کر جو کسی فیلڈ میں اپنا مقام بنا رہی ہیں۔ ہر انسان کی اپنی اپروچ اور ضروریات ہوتی ہیں۔آپ نے اپنے حالات ، اپنی ذہنی صلاحیت اور صحت کو مدنظر رکھ کر فیصلے لینے ہوتے ہیں۔اب ایسی بھی خواتین دیکھی ہیں میں نے جو شادی اور بچوں کے بعد آن لائن کام کرنے کی طرف آتی ہیں اور سیکھنے کے پروسیس میں وہ فرسٹریشن کا شکار ہوتی ہیں۔
کیونکہ ان کو کوئی ہیلپر تو میسر ہوتی نہیں، گھر بچوں اور کچھ کرنے کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے وہ تھک رہی ہوتی ہیں، وہ اپنا غصہ اپنے بچوں پر اتارتی ہیں۔ ہر چیز سے بے زار ہونے لگتی ہیں۔ میں ان سے کہتی ہوں کمانا اتنا ضروری نہیں ہے اگر آپ کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ آپ خوش رہیں ، اور مطمئن رہیں۔ آپ کسی کی دیکھا دکھائی میں اس فیلڈ میں آنے کی کوشش نہ کریں اور نہ ہی کامیاب خواتین کو دیکھ کر یہ سوچیں کہ آپ کی ڈگریاں ضائع ہو رہی ہیں ۔ بلکہ خود سے مطمئن رہیں۔
لیکن اگر آپ ذہنی طور پر مضبوط ہیں، اور آپ کو ضرورت ہے ، اور آپ اپنے فارغ اوقات یا گھریلو مصروفیات کے ساتھ کچھ کرنا چاہتی ہیں ، کچھ سیکھنا چاہتی ہیں تاکہ آپ ارن کر سکیں تو ضرور آپ اسکل سیکھیں۔ اور اپنی فیملی اور بچوں کو اسپورٹ کریں۔
بس اتنا یاد رکھیں ہر چیز وقت، اور محنت مانگتی ہے۔ دن کا کچھ وقت اگر آپ مخصوص کر لیں گی اپنے کام کے لیے ، سیکھنے کے لیے تو اس کخود نہیں کر سکتیں تو اپنے بچوں کو کم عمری میں اسکل سیکھنے کی طرف لائیں۔ کیونکہ شادی سے پہلے کا جو وقت ہوتا ہے وہ لڑکے لڑکیوں کے لئے گولڈن پیریڈ ہوتا ہے جس میں وہ ملٹی ٹاسک کر سکتے ہیں۔ اور اس عرصے میں وہ اپنے کیرئیر ڈائریکشن کو بھی حاصل کر لیتے ہیں اور اپنے پاؤں پر بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ے مثبت نتائج آپ ضرور دیکھیں گی۔
