by Laila Khan | Sep 27, 2025 | Digital Skill, Financial independence
آپ کے نام !
آج کے دور میں ہر کوئی مالی خود مختاری چاہتا ہے۔ ایسے میں آپ کے پاس بہت سارے آپشنز ہیں۔ مگر سب سے پہلے آپ نے یہ دیکھنا ہے کہ آپ کو کسی آپشن کی طرف جانا ہے۔ آپ کو سیکھنے کی طرف جانا چاہیے۔ چاہے اسکل سیکھیں۔ یا نالج حاصل کریں۔
یاد رکھیے گا کوئی بھی کام کرنے کے لیے کام آنا ضروری ہے۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کسی سے کہ مجھے کام دو میں ارن کرنا چاہتی ہوں۔ اگلا بندہ آپ سے پوچھے کہ کیا کام کر سکتے ہیں؟ تو آپ جواب میں کہیں گے جو کام بھی دو گے کر لوں گی۔ یاد رکھیے اب وہ دور ہے کہ سامنے والے نے اگر آپ کو جاب دینی ہے تو وہ آپ کی صلاحیت و قابلیت دیکھے گا۔
کاروبار کرنا ہے یا اسکل سیکھنی ہے تو سب سے پہلے آپ تین چیزیں دیکھیں گے۔
آپ کا شوق، آپ کی قابلیت ، آپ کے رسوسز
شوق یعنی آپ کو کام کرنا چاہتے ہیں اس میں آپ کی دلچسپی کا قدر ہے۔ کیونکہ آپ کا شوق آپ کو تھکاتا نہیں ہے محنت پر اکساتا ہے۔
پھر آتی ہے اس قابلیت یعنی جو کام کرنا چاہتے ہیں اس کو کرنے کی کس قدر اہلیت ہے؟ اپنی ذہنی استعداد چیک کریں گے آپ۔ یہ دیکھیں گے کہ آپ کسی کام میں کتنی محنت کر سکتے ہیں۔ جیسے کوئی بچہ بہت لائق ہوتا ہے جلدی چیزیں سیکھ لیتا ہے ، کوئی درمیانے درجے کا ہوتا ہے اسے ، وقت لگتا ہے۔ تو آپ نے بھی اپنی سیکھنے کی صلاحیت کو چیک کرنا ہے۔
اور آخری چیز ہے آپ کے رسوسز۔ یعنی اگر آپ کچھ کرنا چاہ رہے ہیں تو کیا آپ کے پاس اس کام سے متعلقہ جو چیزیں درکار ہیں وہ موجود ہیں؟
جیسے مالی وسائل۔ یا انٹرنیٹ ۔ یا لیپ ٹاپ ۔
جب یہ چیزیں آپ دیکھ لیتے ہیں تو آپ کے لئے کسی بھی فیلڈ کا انتخاب آسان ہو جاتا ہے۔ اور آپ مالی خود مختاری کی جانب قدم بڑھاتے ہیں۔
آن لائن بہت سے کام آپ کر سکتے ہیں۔ جو آپ کو کرنا آتا ہے اس کا چھوٹا سا بزنس پیج بنا کر اپنا کام سیل کر سکتے ہیں۔
وہ کام یا ہنر دوسروں کو سکھا سکتے ہیں۔
اگر کچھ نہیں آتا تو سیکھ لیں۔ مگر پریشان ہو کر نہیں کہ ہائے مجھے کام نہیں آتا یا کچھ نہیں آتا۔
تسلی سے اور صبر سے سیکھیں ۔ جو سیکھیں اس کی پریکٹس کریں۔
جتنا اچھا کام آپ کا ہو گا اتنی گارنٹی ہے کہ آپ کو کلائنٹس ملیں گے۔
صرف یہ سوچیں گے کہ میں جلدی ارن کر جاؤں ، جلدی کلائنٹس مل جائیں تو ایسے میں آپ کسی چیز پر فوکس نہیں کر پائیں گے اور نہ کام کی کوالٹی اچھی ہو گی۔
فارغ اوقات میں یوٹیوب یا چیٹ جی پی ٹی پر آئیڈیاز تلاش کیا کریں۔ وہ آپشنز سرچ کریں جن کے ذریعے آپ نے مالی خود مختاری حاصل کرنا ہے۔ اور پھر اس پر کام شروع کر دیں۔
یاد رکھیں سیکھے بغیر اور جانے بغیر آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ شارٹ کٹس سے کبھی بھی پائیدار ارننگ نہیں ہوتی۔
by Laila Khan | Sep 26, 2025 | Digital Skill
آپ کے نام!
ویسے تو عمر کی کوئی پابندی نہیں ہے، کسی بھی عمر میں آپ آن لائن کام کر سکتے ہیں۔البتہ جو اہم بات ہے اس سلسلے میں وہ یہ ہے کہ آن لائن کام کی طرف آنے سے پہلے جو سیکھنے اور سمجھنے کا مرحلہ ہوتا ہے وہ کس عمر میں ہونا بہتر ہے۔ تو وہ ہے جب آپ اپنے تعلیمی دور میں ہوں (چاہے اسکول، کالج،یونیورسٹی)کیونکہ اس میں گھریلو ذمہ داریاں کم ہوتی ہیں تو سیکھنے کا وقت زیادہ میسر ہوتا ہے۔
آج کے دور میں بچے بچیوں کے پاس موبائل اور دیگر gadgets ہیں۔ ایسے میں بچے کی ڈائریکشن کو بہتر کر نے کے لئے آپ کو اسے کسی بھی پراڈکٹیو کام میں مصروف کرنے کی ضرورت ہے، یہ ضروری نہیں کہ وہ تعلیم چھوڑ دے، یا آپ توقع کریں کہ وہ دو ڈھائی ماہ میں ارننگ کرنے لگ جائے گا ، بلکہ مقصد یہ ہو گا کہ وہ اپنی ساری انرجی اور اپنا ایکسٹرا وقت کسی غیرمناسب ایکٹیویٹی میں نہیں لگائے گا۔
کیونکہ والدین چوبیس گھنٹے بچوں کی نگرانی نہیں کرتے ایسے میں اگر آپ کا دس سالہ ، چودہ سالہ بچہ موبائل پر کچھ سیکھ رہا ہو گا تو آپ کو بھی اس کی طرف سے پریشانی نہیں ہو گی۔ کل کو یہی سیکھا ہوا علم اسے مالی طور پر فائدہ دے رہا ہو گا ۔اسکل سیکھنا اس طرح ہے جس طرح بچے کو تیراکی سکھانا ہے ۔ زندگی کے اچھے برے حالات میں اسکل انسان کو سروائیو کرنے کے قابل بناتی ہے۔
اگر آپ اس معاشرے میں روزگار کے مواقعوں کو دیکھیں تو جو کم پڑھا لکھا ہے اس کے پاس روزگار کے کیا آپشنز ہیں؟ مزدوری؟ یا جو خواتین کم پڑھیں لکھی ہیں تو ان کو جو کرنا آتا ہے وہ اسی کے ذریعے اپنی فیملی کو اسپورٹ کرتی ہیں۔ لوگوں کے گھروں کا کام کر کے، کیونکہ ان کو بھی پتا ہے لوگوں کی باتوں سے ان کے گھر کا چولہا نہیں جلے گا۔انہیں اپنے لئے کچھ کرنا ہے۔ اسی لئے ضروری ہے آپ کم عمری میں لڑکے لڑکیوں کو دوران تعلیم کوئی اسکل سیکھنے کی جانب لے کر آئیں۔
رہی بات شادی شدہ خواتین کی، کہ کیا وہ آن لائن کام کر سکتی ہیں؟ تو بالکل کر سکتی ہیں۔بلکہ یہ زیادہ آسان ہے کیونکہ آپ کو اپنے گھر سے ہی کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن بات یہاں پھر وہی آ جاتی ہے آن لائن کام کرنے سے پہلے اس کام کو سیکھنے کے پروسیس کی۔
یہاں دو رائے ہیں۔ پہلی رائے اگر آپ کا شوہر اچھا کما رہا ہے اور آپ کو ضرورت نہیں ہے آن لائن کام کرنے کی تو پھر آپ اس طرف نہ آئیں۔
آن لائن کام کرنا یا سیکھنے کی طرف صرف اس لیے آنا کہ آپ کو یہ لگتا ہے کہ آپ گھریلو ذمہ داریوں میں ضائع ہو رہی ہیں تو یہ سوچ درست نہیں۔
وہ خاتون جو کہیں جاب کر رہی ہے یا کیرئیر بنا رہی ہے اس کے مقابلے میں وہ خاتون جو گھر، بچوں کو سنبھال رہی ہے ،کسی طرح بھی کم نہیں ہے۔ بلکہ وہ تو ایک unpaidجاب کر رہی ہے ، جس میں کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔ وہ ضائع نہیں ہو رہی اگر وہ اپنا وقت ، انرجی اپنے بچوں، اپنے گھر پر لگا رہی ہے۔
شادی شدہ خواتین کو کسی بھی طرح کا احساس کمتری نہیں ہونا چاہیے ان خواتین کو دیکھ کر جو کسی فیلڈ میں اپنا مقام بنا رہی ہیں۔ ہر انسان کی اپنی اپروچ اور ضروریات ہوتی ہیں۔آپ نے اپنے حالات ، اپنی ذہنی صلاحیت اور صحت کو مدنظر رکھ کر فیصلے لینے ہوتے ہیں۔اب ایسی بھی خواتین دیکھی ہیں میں نے جو شادی اور بچوں کے بعد آن لائن کام کرنے کی طرف آتی ہیں اور سیکھنے کے پروسیس میں وہ فرسٹریشن کا شکار ہوتی ہیں۔
کیونکہ ان کو کوئی ہیلپر تو میسر ہوتی نہیں، گھر بچوں اور کچھ کرنے کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے وہ تھک رہی ہوتی ہیں، وہ اپنا غصہ اپنے بچوں پر اتارتی ہیں۔ ہر چیز سے بے زار ہونے لگتی ہیں۔ میں ان سے کہتی ہوں کمانا اتنا ضروری نہیں ہے اگر آپ کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ آپ خوش رہیں ، اور مطمئن رہیں۔ آپ کسی کی دیکھا دکھائی میں اس فیلڈ میں آنے کی کوشش نہ کریں اور نہ ہی کامیاب خواتین کو دیکھ کر یہ سوچیں کہ آپ کی ڈگریاں ضائع ہو رہی ہیں ۔ بلکہ خود سے مطمئن رہیں۔
لیکن اگر آپ ذہنی طور پر مضبوط ہیں، اور آپ کو ضرورت ہے ، اور آپ اپنے فارغ اوقات یا گھریلو مصروفیات کے ساتھ کچھ کرنا چاہتی ہیں ، کچھ سیکھنا چاہتی ہیں تاکہ آپ ارن کر سکیں تو ضرور آپ اسکل سیکھیں۔ اور اپنی فیملی اور بچوں کو اسپورٹ کریں۔
بس اتنا یاد رکھیں ہر چیز وقت، اور محنت مانگتی ہے۔ دن کا کچھ وقت اگر آپ مخصوص کر لیں گی اپنے کام کے لیے ، سیکھنے کے لیے تو اس کخود نہیں کر سکتیں تو اپنے بچوں کو کم عمری میں اسکل سیکھنے کی طرف لائیں۔ کیونکہ شادی سے پہلے کا جو وقت ہوتا ہے وہ لڑکے لڑکیوں کے لئے گولڈن پیریڈ ہوتا ہے جس میں وہ ملٹی ٹاسک کر سکتے ہیں۔ اور اس عرصے میں وہ اپنے کیرئیر ڈائریکشن کو بھی حاصل کر لیتے ہیں اور اپنے پاؤں پر بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ے مثبت نتائج آپ ضرور دیکھیں گی۔
by Laila Khan | Sep 25, 2025 | Digital Skill, Financial independence, Social Problem
آپ کے نام!
اس دنیا میں اب زندگی میں اتنا کچھ ضروری شمار ہونے لگا ہے کہ مرد اور عورت دونوں کے لیے ضروری ہو گیا ہے مالی طور پر خودمختار ہونا۔تعلیمی ضروریات ہوں، گھریلو ضروریات ہوں، بچوں کے اخراجات ہوں، آسائشات چاہیے ہوں تو سب کے لیے پیسہ درکار ہوتا ہے۔
ہر خواب کی تکمیل کے لیے سرمایہ چاہیے ہوتا ہے۔
مالی طور پر خودمختار ہونا لڑکیوں کے لئے ایک تو اس لئے ضروری ہے کہ بہت سی لڑکیاں پڑھنا چاہتی ہوتی ہیں مگر تعلیمی اخراجات زیادہ ہونے کے باعث وہ مزید تعلیم حاصل نہیں کر پاتیں کیونکہ ان کے والدین افورڈ نہیں کر سکتے۔ یا تعلیم تو جاری رکھتی ہیں مگر انہیں اپنے کندھوں پر بوجھ محسوس ہوتا ہے کہ والدین ان کے تعلیمی اخراجات پورے کر رہے ہیں۔
دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ شادی کے بعد اکثرلڑکیوں کا ایسے سسرال یا شوہر سے واسطہ پڑتا ہے جو اس کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے لاپرواہی برتتے ہیں ۔ چھوٹی چھوٹی ضروریات کے لیے لڑکیاں سسرالیوں کی جانب دیکھتی ہیں ۔ ترستی ہیں۔ دل کو مارتی ہیں۔
چونکہ وہ بہادر نہیں ہوتیں کہ اپنے حق کے لیے اسٹینڈ لے سکیں۔ تو ایسے میں وہ گھٹ گھٹ کے زندگی گزارتی ہیں۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ شوہر بھی اچھا ہے ، سسرالی بھی مگر مالی وسائل یا شوہر کی آمدنی کم ہوتی ہے اورپھر ان کے دو سے تین بچے ہوتے ہیں ، وقت کے ساتھ انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ گھر کی گاڑی صرف شوہر کی کمائی پر نہیں چل سکتی ،ایسے میں انہیں بھی اپنے شوہر کے ساتھ کچھ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یا جو خواتین سنگل پیرنٹ ہوتی ہیں ان پر بھی اپنے بچوں کی ذمہ داریاں آ جاتی ہیں تو ان کے پاس بھی یہی آپشن بچتا ہے کہ وہ کچھ کریں اپنے بچوں کے لیے ۔
یا کچھ لڑکیاں پر آسائش زندگی گزارنا چاہتی ہوتی ہیں مگر وہ اپنی مرضی کی چیزیں نہیں خرید سکتیں یا مرضی کا کام نہیں کر سکتیں کیونکہ ان کی ضروریات پر پیسہ لگانے والے ان کے والدین یا شوہر ان کی زائد خواہشات پر انویسٹ نہیں کر سکتے۔اس لئے اب یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ اس وقت کا انتظار کریں جب آپ کو مالی طور پر خودمختار ہونے کی ضرورت پیش آئے گی۔ بلکہ ابھی جو وقت دستیاب ہے اپنے لئے کچھ کریں۔
کیونکہ ضرورت کے وقت آپ جب کچھ بھی کریں گی تو ایک دم سے آپ کو نتائج نہیں ملیں گے ، نہ ایک دم سے ارننگ شروع ہو گی۔
اس کے علاؤہ کل کو آپ کوئی بھی فیصلہ کرتے لوگوں کی محتاج ہوں گی، اس لئے اب اپنے لئے جو کر سکتی ہیں کریں۔ سیکھیں ، محنت کریں اور کمائیں۔ کیونکہ مالی خودمختاری سے ایک تو آپ میں اعتماد آئے گا۔ آپ مالی طور پر محتاج نہیں ہوں گی لوگوں کی، رشتوں کی کہ وہ آپ کی ضروریات پوری کریں۔
آپ کی اپنی نظر میں وقعت ہو گی۔ اس وقعت میں اکڑ نہیں ہونی چاہیے۔ اس میں اپنی اہمیت کا احساس ہونا چاہیے۔ کہ آپ بے مول نہیں ہیں۔ نہ آپ کوئی بے چاری ہیں۔ کہ کوئی آپ کو روند دے۔ دبا دے۔
اس کے علاؤہ چاہے آن لائن کام کریں یا آف لائن اس سے آپ کو مختلف مزاج کے لوگوں کے ساتھ ڈیل کرنا، بات کرنا آئے گا، آپ کو دنیا داری کی سمجھ آئے گی۔ لوگوں کی نیچر سے واقفیت ہو گی۔
آج کے دور میں زیادہ تر لوگ کسی کی پوزیشن یا مقام سے بہت مرعوب رہتے ہیں اور اسی کی عزت کرتے ہیں، اوراگر آپ مالی طور پر مضبوط ہوں گی، کچھ کر رہی ہوں گی تو مستقبل میں ایسے مادہ پرست لوگوں کے ساتھ رہنا پڑے تو آپ کو مسئلہ نہیں ہو گا۔
اور سب سے اہم چیز مالی خودمختاری ضرور حاصل کریں نہ صرف اپنی ضروریات اور خواہشات کی آزادانہ تکمیل کے لیے بلکہ اپنی تسکین کے لئے۔
جو آپ کو خوشی بھی دے۔ صرف ایک دوڑ کا حصہ بننے کے لیے نہیں۔
میں نے ہمیشہ حقائق پر بات کی ہے۔ اور اس تجربے پر جو میں نے اپنی زندگی اور لوگوں کی زندگیوں کے مشاہدے سے حاصل کیا ہے۔
ہو سکتا ہے یہاں لوگ اعتراض اٹھائیں کہ پھر ان خواتین کا کیا جو مالی طور پر مضبوط ہو کر بھی اچھی زندگی نہیں گزار رہی ہوتیں یا اپنی شادی شدہ زندگی میں suffer کرتی ہیں۔ تو یہاں بات یہ ہے کہ زندگی کے معاملات بڑے پیچیدہ ہوتے ہیں، ان کے ساتھ ہرانسان اپنی نیچر کے حساب سے dealکرتا ہے۔
ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی لڑکیوں کو ایک اچھی چیز کی ترغیب دیں۔
ان کی حوصلہ افزائی کریں ، تاکہ وہ زندگی میں کچھ کرنے کے قابل ہوں۔ اور مستقبل میں کسی بھی طرح کے حالات کے پیشِ نظر اپنے لئے اور اپنی فیملی کے لیے کچھ کر سکیں۔ اگر ہم منفی باتوں یا پہلوؤں کو دیکھتے رہیں گے تو یوں زندگی میں کوئی کام نہیں کر سکیں گے۔نہ گروتھ ہو گی۔
اس لیے اپنی لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ ان کو توڑیں نہیں۔ نہ انہیں Growکرنے سے روکیں۔ ایک مضبوط شخصیت کی حامل عورت مضبوط خاندان بناتی ہے۔
مالی خودمختاری نے مجھے کیسے فائدہ دیا اس سلسلے میں اپنا ذاتی تجربہ شیئر کروں,
میرا چونکہ پنجاب کے ایک چھوٹے علاقے سے تعلق تھا، اور وہاں لڑکیاں زیادہ سے زیادہ اسکول جاب یا سلائی کا کام کرتی تھیں۔ ہماری فیملی میں چونکہ لڑکیوں کو جاب کرنے کی اجازت نہیں تھی تو اس لئے ہماری تعلیم پر بھی زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ پڑھ لیا تو ٹھیک نہیں تو کوئی بات نہیں۔
میرے والد سرکاری ملازم تھے اور ہم بچے تھے چھے۔
بہنوں کی منگنیاں ، شادیاں اور دیگر تہواروں پر اخراجات کرتے کرتے میں نے اپنے والدین کے کندھے آہستہ آہستہ جھکتے دیکھے۔ تب ذہن میں یہی خواہش تھی کہ ان پر اپنی شادی کا بوجھ نہیں ڈالوں گی۔ اور اللہ نے مدد کی۔ مالی خودمختاری کی وجہ سے اپنے والدین پر اپنی شادی کا ایک روپے کا بھی بوجھ نہیں ڈالا۔
دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ جب میں نے زندگی میں کچھ اچیو کیا ، اور اپنے وجود کو ثابت کیا تو ایسے ماحول میں جہاں لڑکیوں کی شادی کے حوالے سے نہ تو رائے لی جاتی ہے اور اپنے رشتے داروں کے ساتھ تعلق بہتر کرنے کے لیے رشتے کر دئیے جاتے تھے وہاں میری سوچ اور میری رائے کو اہمیت دی گئی۔ میرے وجود کو کچھ جانا گیا۔
یہ بھی فایدہ ہوا کہ شادی کے بعد بھی میں نے اپنے والدین کو مالی اسپورٹ کرنا نہیں چھوڑا۔ اور نہ اس معاملے پر مجھے کسی پر انحصار کرنا پڑا۔نہ کسی کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑی۔
تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ مجھے زندگی میں پراڈکٹیو رہنے کا مزاج حاصل ہوا۔ مجھے اچھی مصروفیت حاصل ہوئی۔ سارا دن فضول سرگرمیوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے میں اپنے کام میں صرف کرتی۔ زندگی میں غم، تکالیف ، مسائل جو کچھ ملا اس تکلیف نے مجھے بستر سے نہیں لگایا کیونکہ مجھے کام کرنے کی عادت سی ہو گئی تھی۔ تو کہہ سکتے ہیں کہ گروتھ نہیں رکی۔
اور سب سے اہم تسکین۔میرا کام مجھے تسکین دیتا ہے۔بھلے مجھے گھنٹوں کی محنت کا معاوضہ کم ملے مگر مجھے اپنے حصے کی محنت کر کے خوشی ہوتی ہے۔ اور محنت برکت لاتی ہے زندگی میں۔ 🌸