• Home
  • Course
  • Blog
  • About us
  • Login

لڑکیوں کو کیوں مالی طور پر خودمختار ہونا چاہیے؟

by Laila Khan | Sep 25, 2025 | Digital Skill, Financial independence, Social Problem | 1 comment

آپ کے نام!

اس دنیا میں اب زندگی میں اتنا کچھ ضروری شمار ہونے لگا ہے کہ مرد اور عورت دونوں کے لیے ضروری ہو گیا ہے مالی طور پر خودمختار ہونا۔تعلیمی ضروریات ہوں، گھریلو ضروریات ہوں، بچوں کے اخراجات ہوں، آسائشات چاہیے ہوں تو سب کے لیے پیسہ درکار ہوتا ہے۔
ہر خواب کی تکمیل کے لیے سرمایہ چاہیے ہوتا ہے۔

مالی طور پر خودمختار ہونا لڑکیوں کے لئے ایک تو اس لئے ضروری ہے کہ بہت سی لڑکیاں پڑھنا چاہتی ہوتی ہیں مگر تعلیمی اخراجات زیادہ ہونے کے باعث وہ مزید تعلیم حاصل نہیں کر پاتیں کیونکہ ان کے والدین افورڈ نہیں کر سکتے۔ یا تعلیم تو جاری رکھتی ہیں مگر انہیں اپنے کندھوں پر بوجھ محسوس ہوتا ہے کہ والدین ان کے تعلیمی اخراجات پورے کر رہے ہیں۔

دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ شادی کے بعد اکثرلڑکیوں کا ایسے سسرال یا شوہر سے واسطہ پڑتا ہے جو اس کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے لاپرواہی برتتے ہیں ۔ چھوٹی چھوٹی ضروریات کے لیے لڑکیاں سسرالیوں کی جانب دیکھتی ہیں ۔ ترستی ہیں۔ دل کو مارتی ہیں۔
چونکہ وہ بہادر نہیں ہوتیں کہ اپنے حق کے لیے اسٹینڈ لے سکیں۔ تو ایسے میں وہ گھٹ گھٹ کے زندگی گزارتی ہیں۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ شوہر بھی اچھا ہے ، سسرالی بھی مگر مالی وسائل یا شوہر کی آمدنی کم ہوتی ہے اورپھر ان کے دو سے تین بچے ہوتے ہیں ، وقت کے ساتھ انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ گھر کی گاڑی صرف شوہر کی کمائی پر نہیں چل سکتی ،ایسے میں انہیں بھی اپنے شوہر کے ساتھ کچھ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یا جو خواتین سنگل پیرنٹ ہوتی ہیں ان پر بھی اپنے بچوں کی ذمہ داریاں آ جاتی ہیں تو ان کے پاس بھی یہی آپشن بچتا ہے کہ وہ کچھ کریں اپنے بچوں کے لیے ۔

یا کچھ لڑکیاں پر آسائش زندگی گزارنا چاہتی ہوتی ہیں مگر وہ اپنی مرضی کی چیزیں نہیں خرید سکتیں یا مرضی کا کام نہیں کر سکتیں کیونکہ ان کی ضروریات پر پیسہ لگانے والے ان کے والدین یا شوہر ان کی زائد خواہشات پر انویسٹ نہیں کر سکتے۔اس لئے اب یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ اس وقت کا انتظار کریں جب آپ کو مالی طور پر خودمختار ہونے کی ضرورت پیش آئے گی۔ بلکہ ابھی جو وقت دستیاب ہے اپنے لئے کچھ کریں۔

کیونکہ ضرورت کے وقت آپ جب کچھ بھی کریں گی تو ایک دم سے آپ کو نتائج نہیں ملیں گے ، نہ ایک دم سے ارننگ شروع ہو گی۔
اس کے علاؤہ کل کو آپ کوئی بھی فیصلہ کرتے لوگوں کی محتاج ہوں گی، اس لئے اب اپنے لئے جو کر سکتی ہیں کریں۔ سیکھیں ، محنت کریں اور کمائیں۔ کیونکہ مالی خودمختاری سے ایک تو آپ میں اعتماد آئے گا۔ آپ مالی طور پر محتاج نہیں ہوں گی لوگوں کی، رشتوں کی کہ وہ آپ کی ضروریات پوری کریں۔

آپ کی اپنی نظر میں وقعت ہو گی۔ اس وقعت میں اکڑ نہیں ہونی چاہیے۔ اس میں اپنی اہمیت کا احساس ہونا چاہیے۔ کہ آپ بے مول نہیں ہیں۔ نہ آپ کوئی بے چاری ہیں۔ کہ کوئی آپ کو روند دے۔ دبا دے۔
اس کے علاؤہ چاہے آن لائن کام کریں یا آف لائن اس سے آپ کو مختلف مزاج کے لوگوں کے ساتھ ڈیل کرنا، بات کرنا آئے گا، آپ کو دنیا داری کی سمجھ آئے گی۔ لوگوں کی نیچر سے واقفیت ہو گی۔

آج کے دور میں زیادہ تر لوگ کسی کی پوزیشن یا مقام سے بہت مرعوب رہتے ہیں اور اسی کی عزت کرتے ہیں، اوراگر آپ مالی طور پر مضبوط ہوں گی، کچھ کر رہی ہوں گی تو مستقبل میں ایسے مادہ پرست لوگوں کے ساتھ رہنا پڑے تو آپ کو مسئلہ نہیں ہو گا۔
اور سب سے اہم چیز مالی خودمختاری ضرور حاصل کریں نہ صرف اپنی ضروریات اور خواہشات کی آزادانہ تکمیل کے لیے بلکہ اپنی تسکین کے لئے۔
جو آپ کو خوشی بھی دے۔ صرف ایک دوڑ کا حصہ بننے کے لیے نہیں۔

میں نے ہمیشہ حقائق پر بات کی ہے۔ اور اس تجربے پر جو میں نے اپنی زندگی اور لوگوں کی زندگیوں کے مشاہدے سے حاصل کیا ہے۔
ہو سکتا ہے یہاں لوگ اعتراض اٹھائیں کہ پھر ان خواتین کا کیا جو مالی طور پر مضبوط ہو کر بھی اچھی زندگی نہیں گزار رہی ہوتیں یا اپنی شادی شدہ زندگی میں suffer کرتی ہیں۔ تو یہاں بات یہ ہے کہ زندگی کے معاملات بڑے پیچیدہ ہوتے ہیں، ان کے ساتھ ہرانسان اپنی نیچر کے حساب سے dealکرتا ہے۔
ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی لڑکیوں کو ایک اچھی چیز کی ترغیب دیں۔

ان کی حوصلہ افزائی کریں ، تاکہ وہ زندگی میں کچھ کرنے کے قابل ہوں۔ اور مستقبل میں کسی بھی طرح کے حالات کے پیشِ نظر اپنے لئے اور اپنی فیملی کے لیے کچھ کر سکیں۔ اگر ہم منفی باتوں یا پہلوؤں کو دیکھتے رہیں گے تو یوں زندگی میں کوئی کام نہیں کر سکیں گے۔نہ گروتھ ہو گی۔
اس لیے اپنی لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ ان کو توڑیں نہیں۔ نہ انہیں Growکرنے سے روکیں۔ ایک مضبوط شخصیت کی حامل عورت مضبوط خاندان بناتی ہے۔

مالی خودمختاری نے مجھے کیسے فائدہ دیا اس سلسلے میں اپنا ذاتی تجربہ شیئر کروں,
میرا چونکہ پنجاب کے ایک چھوٹے علاقے سے تعلق تھا، اور وہاں لڑکیاں زیادہ سے زیادہ اسکول جاب یا سلائی کا کام کرتی تھیں۔ ہماری فیملی میں چونکہ لڑکیوں کو جاب کرنے کی اجازت نہیں تھی تو اس لئے ہماری تعلیم پر بھی زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔ پڑھ لیا تو ٹھیک نہیں تو کوئی بات نہیں۔

میرے والد سرکاری ملازم تھے اور ہم بچے تھے چھے۔
بہنوں کی منگنیاں ، شادیاں اور دیگر تہواروں پر اخراجات کرتے کرتے میں نے اپنے والدین کے کندھے آہستہ آہستہ جھکتے دیکھے۔ تب ذہن میں یہی خواہش تھی کہ ان پر اپنی شادی کا بوجھ نہیں ڈالوں گی۔ اور اللہ نے مدد کی۔ مالی خودمختاری کی وجہ سے اپنے والدین پر اپنی شادی کا ایک روپے کا بھی بوجھ نہیں ڈالا۔
دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ جب میں نے زندگی میں کچھ اچیو کیا ، اور اپنے وجود کو ثابت کیا تو ایسے ماحول میں جہاں لڑکیوں کی شادی کے حوالے سے نہ تو رائے لی جاتی ہے اور اپنے رشتے داروں کے ساتھ تعلق بہتر کرنے کے لیے رشتے کر دئیے جاتے تھے وہاں میری سوچ اور میری رائے کو اہمیت دی گئی۔ میرے وجود کو کچھ جانا گیا۔
یہ بھی فایدہ ہوا کہ شادی کے بعد بھی میں نے اپنے والدین کو مالی اسپورٹ کرنا نہیں چھوڑا۔ اور نہ اس معاملے پر مجھے کسی پر انحصار کرنا پڑا۔نہ کسی کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑی۔
تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ مجھے زندگی میں پراڈکٹیو رہنے کا مزاج حاصل ہوا۔ مجھے اچھی مصروفیت حاصل ہوئی۔ سارا دن فضول سرگرمیوں میں اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے میں اپنے کام میں صرف کرتی۔ زندگی میں غم، تکالیف ، مسائل جو کچھ ملا اس تکلیف نے مجھے بستر سے نہیں لگایا کیونکہ مجھے کام کرنے کی عادت سی ہو گئی تھی۔ تو کہہ سکتے ہیں کہ گروتھ نہیں رکی۔
اور سب سے اہم تسکین۔میرا کام مجھے تسکین دیتا ہے۔بھلے مجھے گھنٹوں کی محنت کا معاوضہ کم ملے مگر مجھے اپنے حصے کی محنت کر کے خوشی ہوتی ہے۔ اور محنت برکت لاتی ہے زندگی میں۔ 🌸

1 Comment

  1. Sadia Ramzan
    Sadia Ramzan on 12/03/2025 at 2:03 am

    May ALLAH pak fill your life with barakah ameen. Mam you are such an inspiration for me

    Reply

Leave a Reply to Sadia Ramzan Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  1. saliha-rehman on 4.Understanding Content Creation / Content Strategies
  2. sara-irshad on 4.Understanding Content Creation / Content Strategies
  3. muhammad-hussain on 4.Understanding Content Creation / Content Strategies
  4. muhammad-hussain on 2. Trending Niches & Where You Fit
  5. javeria-rehmat on 2. Trending Niches & Where You Fit

I’m Laila Khan, a passionate educator and creative entrepreneur with a Master’s degree in Islamic Studies and over a decade of experience in the digital world.

Join Me

Follow me on Social Media For Umeed ki baten

  • Follow
  • Follow

Copyright 2025 | Learn with Gull. All Rights Reserved